![]() |
| شادی اور باہری ممالک |
کیا یہ عورت پہ ظلم نہیں کہ مرد شادی کے ایک ہفتے یا مہینے بعد ہی بیرون ملک چلے جاتے ہیں
اور بیوی کو دو دو تین تین سال کے لیے چھوڑ جاتے ہیں
ابھی وہ عورت نئی نئی اس گھر میں آئی ہوتی ہے ابھی اس کو آئے اُس گھر میں کچھ ہی ماہ ہوئے ہوتے ہیں اور اس کو نیا نیا ماحول
ملتا ہے نئے نئے لوگوں سے سامنا ہوتا ہے جب بیوی کو سب سے زیادہ شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت تو وہ چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں
مشورہ: یا تو شادی کے بعد بیوی کو بھی ساتھ رکھیں یا پھر شادی کے بعد اپنے ملک میں ہی مناسب نوکری تلاش کر لیں تھوڑے پہ گزارہ کر لیں لیکن اپنوں کے ساتھ رہیں اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر شادی کر کے دوسروں کی بیٹیوں کو آزمائش میں مت ڈال کر جائیں،بہتر ہے شادی ہی نہ کریں یا تب کریں جب اسکو ساتھ رکھ سکیں.
وہی بچی جو شادی کے وقت کھلی کھلی ہوتی ہے
بعد میں وہی بچی شوہر کے جانے کے بعد مرجھا جاتی ہے دس دن سسرال رہتی ہے تو دس دن میکے وہ بھی تب جب سسرالی کچھ اچھے ہوں ورنہ تو بچیاں سسرال والوں کی نوکر بن کے رہ جاتی ہیں.
مشاہدے کی بات ہے
کہ ایک لڑکی کی پانچ سال پہلے شادی ہوئی ، شادی کے ایک ماہ بعد اسکا شوہر اسکو چھوڑ کر آسٹریلیا چلا گیا لیکن وہ اب تک واپس نہیں آیا جبکہ اسکا بیٹا بھی اب پانچ سال کا ہو گیاہے اور وہ سسرال کے رحم و کرم پہ جی رہی ہے اس آس پہ کہ میرا شوہر آ جائے گا
قصوروار کون ہیں؟
اس طرح کی شادیوں میں ہمارے والدین بھی قصوروار ہیں اکثر لڑکی والے اسی رشتے کو ترجیح دیتے ہیں جس لڑکے کا روزگار باہر ہو اور باہر چاہے وہ کچھ بھی کرتا ہو بس باہر کی آمدنی ہو.
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیئے
یہ نہیں دیکھا جاتا بندہ طرح طرح کے بندوںکے ساتھ رہتا ہےطرح طرح کی اس کو صحبت ملتی ہے اور پھر وہ ان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے(ایک بات ہمیشہ یاد رکھیئے کہ صحبت بہت اثر رکھتی ہے )پیسہ آنی جانی چیز ہے .کبھی بھی پیسے کو ترجیح مت
دیجئے بلکہ ہمیشہ دین اور دین پر عمل کرنے والے کو ترجیح دیجئے۔
پھر یہ ہوتا ہے کہ مرد دو تین سال بعد آتا ہے بچے ہوتے ہیں اور بڑے ہوتے رہتےہیں اور پھر مرد وعورت دونوں بس پیسے کی لالچ میںاور بچوں کے مستقبل کے لیے جدا رہنا گوارہ کر لیتے ہیں ۔اس طرح بچے کی تربیت بھی صحیح نہیں ہوپاتی نہ اس کو ماں کا مکمل پیار مل پاتا ہے اورنہ باپ کا ۔۔۔
...کیا فائدہ ایسی شادی شدہ زندگی کا کہ پیسے کی تو ریل پیل ہو اور میاں بیوی جدا جدا ...
طالب ِ دعا:
علامہ حافظ سید محمد زاہد حسین نقوی بخاری
Shadi Or Bahir Mumalik
PDF File Download Now:
