![]() |
| تمام آسمانی کتابوں کا ماہِ رمضان میں نزول |
تمام آسمانی کتابوں کا ماہِ رمضان میں نزول
حضور اکرم ﷺکی حدیث شریف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحائف ماہِ رمضان کی پہلی تاریخ کو نازل فرمائے۔ تورات شریف ماہِ رمضان کی تیسری تاریخ کو اور قرآن مجید چوبیس تاریخ کو اور ایک روایت کے مطابق زبور شریف بارھویں ماہِ رمضان کو نازل ہوئی۔
قارئین کرام! رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور رمضان کے مہینے کا معنی ہے اللہ کا مہینہ اور نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ یہ نہ کہو کہ رمضان آیا، رمضان گیا ، بلکہ یوں کہو کہ ماہِ رمضان آیا اور ماہِ رمضان گیا۔ کیونکہ رمضان، اللہ کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
(تفسیر ابن کثیر، جلد :1، صفحہ:112، روح البیان ، جلد:1، صفحہ:296)
علامہ سعیدی صاحب تبیان القرآن میں تفسیر کبیر کے حوالے سے لکھتے ہیں
رمضان کے مہینے میں قرآن کے نزول کی ابتداء اس وجہ سے کی گئی کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور انوار الٰہیہ ہمیشہ آشکار اور منکشف رہتے ہیں البتہ ارواح بشریہ میں ان انوار کے ظہور سے حجابات بشریہ مانع ہوتے ہیںاور بشری حجابات کے زوال کا سب سے قوی سبب روزہ ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کشف کے حصول کا سب سے قوی ذریعہ روزہ ہے اور نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے اگر اولادِ آدم کے دلوں میں شیطان نہ گھومتے تو وہ آسمان کی نشانیوں کو دیکھ لیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید اور رمضان میں عظیم مناسبت ہے اسی لئے قرآن کے نزول کی ابتداء کے لیے اس مہینے کو خاص کر لیا گیا ۔
(تفسیر کبیر، جلد:2، صفحہ :121، تبیان القرآن ، جلد: 1، صفحہ: 512)
